Skip to main content

اعصابی کمزوری ہے کیا؟

 



اعصابی کمزوری ہے کیا؟

ایک عام بولے جانے والا جملہ "مجھے اعصابی کمزوری ھے"

یہ چھوٹے موٹے الفاظ میں یہ مکالمہ ہوتا ہے آپ کو اعصابی کمزوری ہے, مجھے اعصابی کمزوری ہے, 

⬅ضعف عصبی, پٹھوں کی کمزوری 

اس مرض میں اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔ اور عصبی نظام میں خلل اور فتور پیدا ہو جاتا ہے۔ 

شدید جسمانی و دماغی محنت, زیابیطس کثرت ملاپ, نشہ آور چیزوں کا استعمال رنج و غم صدمہ ایکسڈنٹ, دبا ہوا جنسی جذبہ, 

عام کمزوری کی تمام علامات پائی جاتی ہیں۔ 

معمولی کام سے تھکن محسوس ہوتی ہے, کام کرنے کو جی نہیں چاہئتا, مریض چڑچڑا پست ہمت اور کمزور ہو جاتا ہے۔ قوت فیصلہ ختم, بےخوابی, پریشانی خیالات اور وہم میں مبتلا رہتا ہے, دل دھڑکتا ہے, چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے۔, کثرت احتلام جریان رقت, اور کمزوری مردانہ باہ, کبھی نامردی, توہمات کا شکار

مردوں میں خصیوں میں درد اور عورتوں میں خصیتہ الرحم اووریز میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔,  

⬅اعصاب کیا ہیں, اس کو آسان لفظوں میں یوں کہنا سمجھنا چاہیے کہ "ہمارے دماغ میں سے نکلنے والی وائرنگ نروز جسم میں پھیلنے والی شاخوں کو اعصاب کہتے ہیں۔ "

ان کے ذمے مختلف فرائض اور کام ہوتے ہیں مثلا" چھونے, پکڑنے, لکھنے, گرمی سردی کو محسوس کرنے جیسے یہ کام کرتے ہیں۔ اب ان میں گڑبڑ ہو جاۓ تو اپنا کام صحیح طرح انجام نہ دے پائیں گے اور تکلیف ظاہر ہوگی, 

اعصابی کمزوری ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے اور اس کی علامات میں انسان کے اعضا کا درست طریقے سے کام نہ کر سکنا شامل ہے۔علامات میں کانپنا، اعضا کو مکمل طور پر ہلا نہ سکنا اور چلنے میں تکلیف جیسے مسائل شامل ہیں۔ مریض کو سونے میں دشواری کے ساتھ ساتھ جذباتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بیماری کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کرنا اس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے دوا کی طرح اہم ہے، ضروری نہیں کہ یہ ورزش بہت شدید نوعیت کی ہو، ہلکی پھلکی ورزش کو بھی انسان اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتا ہے۔


اعصاب ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم اور لازمی حصہ ہیں۔ معاشی تفکرات،بے یقینی کی کیفیت اور ملکی حالات نے ہم سب کو اعصابی مریض بنا دیا ہے۔ اعصاب حرام مغز سے جڑا وہ نظام ہے جو پورے جسم کے تمام تر افعال کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔اعصاب ہمارے جسم کی حرکات و سکنات کو منظم کر کے دماغ سے اعضا اور اعضا سے دماغ تک پیغام رسانی کا کا م بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔اعصاب ڈوری نما ریشے ہیں جو دماغ کو بدن انسانی کے دیگر نظاموں سے مربوط رکھے ہوئے ہیں جب اعصاب میں کمزوری واقع ہو یا ان کی کار کردگی میں نقص آنے لگے تو انسانی بدن بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔


اعصابی کمزوری کے صحت (health) پر اثرات

اعصابی کمزوری سے پورا بدن کمزوری میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔چونکہ نہ صرف عصبی نظام بلکہ انسانی جسم کے تمام تر نظام ہی دماغ کے تابع افعال سر انجام دیتے ہیں اور با لواسطہ یا بلا واسطہ یہ سب اعصابی نظام سے مربوط بھی ہو تے ہیں۔یوں جب اعصابی نظام کی کار کردگی میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو پوارا بدن انسانی متاثر ہونے لگتا ہے۔


جسمانی کمزوری نمایاں ہو کر سستی وکاہلی کا غلبہ ہونے لگتا ہے۔

چہرہ بے رونق ہو کر افسردگی سی چھانے لگتی ہے۔

پورے بدن میں دردیں اور کندھوں،کمر اور ٹانگوں میں شدید درد رہنے لگتا ہے۔

بھوک کم ہونے کی وجہ سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں جاتا نتیجتاً انسان نحیف و ضعیف ہو کر وقت سے پہلے ہی موت کی تمنا کرنے لگتا ہے۔

کسی کام میں دل نہیں لگتا طبیعت میں اداسی اور اکتاہٹ نمایاں ہونے لگتی ہے۔


گھبراہٹ اور خوف سے ہاتھ پاؤں سرد اور ٹھنڈے پسینے بھی بکثرت آنے لگتے ہیں۔

علاوہ ازیں کئی دیگر عوامل جیسے ضعفِ دماغ ،خون کی کمی،ذیابیطس،لو بلڈ پریشر، کثرتِ فکر و غم،اچانک صدمہ،نشہ آور اشیا کا بکثرت استعمال، بھی اعصابی کمزوری کا سبب ہو سکتے ہیں۔


بِسْمِ اللّٰهِ مطب
پروفیسر حکیم سید تحمل حسین شاہ
وائس پریزیڈنٹ
پاکستان طبی کونسل ڈسٹرکٹ ساہیوال
ہیلتھ کئیر کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرد ادارہ
گھر بیٹھےامراض کے مستقل اور مستند علاج کے لئے رابطہ کریں
Contact Us
📞 0305-9996198
📞 0345-6996198



Comments

Popular posts from this blog

میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے

  میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے"وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔ اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا، ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مُدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اِس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتُون بات چیت کے لیے راضی ہوگئی۔ چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:- " ہاں خاتون ۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ " وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہے" میں اُسکی بے باکی پر حیران رہ گیا ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اُس خاتُون کی کُچھ بات ہی الگ تھی۔ اُسکے شوہر نے ایک نظرِ شکایت اُس پر ڈالی اور میری طرف اِمداد طلب نظروں سے گُھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔ بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا ت...

نیند کا نہ آنا

  نیند کا نہ آنا نیند کے نہ انے کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں پریشانیوں کے علاوہ معدے کی خرابی قبض گیس جسم میں انتہائی خشکی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سارے ایسے امراض بھی ہیں جن کی وجہ سے نیند نہیں اتی مثلا کھانسی دمہ خارش الرجی وغیرہ اگر کوئی شدت کا مرض لاحق نہ ہو تو درج ذیل تدابیر اختیار کرنے سے سکون کی نیند آجاتی ہے سب سے پہلے دن میں سونے سے گریز کریں کھانا وقت پر کھائیں قبض اور گیس کا سبب ہو تو ہلدی ایک گرام نمک ایک گرام ملا کر پانی سے صبح شام کھا لیں گیس اور قبض کے دور ہوتے ہیں نیند آنا شروع ہوجائے گی اگر بہت زیادہ دماغی خشکی کی وجہ سے نیند نہ آتی ہو تو ہلدی ایک گرام ایک چمچ دیسی گھی میں ملا کر صبح شام لینے سے جیسے ہی دماغی خشکی دور ہو گی نیند آنا شروع ہوجائے گی درج ذیل مشروب کے استعمال سے بھی طبعی نیند لوٹ آتی ہے پانی آدھا کلو میں چھ ماشہ یعنی تقریبا چھ گرام سونف ڈال کر آگ پر جوش دے لیجیے جب پانی 125 گرام رہ جائے تو اس میں گائے کا دودھ ایک پاؤ ڈال دیجئے اور دو چمچ دیسی گھی ڈال دیں اب اس میں تین عدد چھوٹی الائچی کے دانے پسے ہوئے اور چینی ملا دیں اور سوتے وقت پی لیا کریں ان شاء ال...

جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا

بےجان جسم مطب پہ دوران معائنہ اکثر مریض جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا جیسی علامات کا تذکرہ کرتےہیں۔ خاص علامت نامردی کی کچھ اس طرح بتاتے ہیں کہ بعد مباشرت جسم بےجان یعنی ٹوٹ سا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ افعال مباشرت بہترین سر انجام دیتے ہیں مگر دوران مباشرت لذت سے عاری اور مباشرت کے بعد جسم کی سکت ختم مثل مردہ۔ تو یہ بے جان جسم کی مرکزی علامت ہے، ایسے مریض مباشرت کے بعد چست یا ہشاش بشاش نہیں رہتے بلکہ لاغر، کمزور اور تھکا ہوا جسم ہوجاتا ہے۔ علامات مباشرت بعد فوراً یا دیر بعد جسم کی سکت کم ہو جانا، بیداری میں مشکل، دردجسم، چکرانا، کمر درد، دھڑکا، چڑچڑا پن، وسواسی، دماغی و اعصابی کمزوری، کام کاج میں بےدلی اور دقت ، تنہائی پسند، جھگڑالو، جنسی خواہشات کی شدت، بزدل، نالائقی، منفی سوچ، شکایتی، کوتاہ فہم، براز کی بے اعتدالی، ،مدافعت کمزور، فلو، چھینکیں، الرجی زکام، بلڈ لو رہنا، کثرت بول، سستی، آنکھوں سے پانی بہنا، ٹھنڈے پیر، غسل سے فرار، ڈر ے رہنا، اسباب مرض حرارت کی کمی، کمی خون، ملیریا، قلت اشتہا ء، دائمی زکام، جسم کی ٹھنڈک، کلسی مادوں کی زیادتی، جسمانی کمزوری، اعصاب ...