Skip to main content

قوتِ مدافعت بڑھانے والی چائے




 قوتِ مدافعت بڑھانے والی چائے


کوئی بھی موسم ہو، چائے پینے والے ہر حال میں اسے ضرور پیتے ہیں اور طبی نقطۂ نگاہ سے ضرورت ہوتو بھی یہ پینی پڑجاتی ہے۔ ہمارے ملک میں چائے شوق سے پی جاتی ہے اورہم سالانہ اربوں روپے کی چائے نوش فرماجاتے ہیں۔ اگر عام سی چائے میں قدر تی اجزاء شامل کرلیے جائیں تو اس سے نہ صرف صحت بخش فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی پیدا ہوتی ہے۔ آج کے مضمون میں ہم آپ کو قوت مدافعت بڑھانے والی پانچ قسم کی چائے کے بارے میں بتانے جارہے ہیں۔
مسالہ چائے:-
مسالہ چائے میں ادرک، کالی مرچ ، الائچی، لونگ اور دارچینی شامل ہوتی ہے۔ خوشبودار دارچینی ایسے کیمیائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے جو ہڈیوں، پٹھوں اور ٹشوز وغیرہ کی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جوڑوں کے درد کے شکار افراد کے لیے بھی بہترین دوا ہے۔ دارچینی کا مستقل استعمال شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور جسم میں بیکٹیریا کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ چھوٹی سی الائچی بڑے بڑے فائدے رکھتی ہے، یعنی یہ تیزابیت کو ختم کرتی ہے، خوابیدگی کے خمار کو کم کرتی ہے جبکہ معدے میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے ریاح پیدا ہونے سے روکتی ہے۔
بدہضمی سے ہونیوالی گیس اور سردرد کیلئے سبزچائے میں الائچی ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔ الائچی معدے میں موجود لعابی جھلی کو مضبوط بناتی ہے، اس لیے یہ تیزابیت کیلئے مفید ہے۔ کھانسی، زکام اور سر درد میں لونگ، تلسی کے پتے اور ادرک والی چائے فائدہ کرتی ہے۔ ادرک کی چائے قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے، جس کی وجہ سے انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ ادرک کی چائے کے استعمال سے نہ صرف جسم کو آسودگی ملتی ہے بلکہ انسانی دماغ کو سخت ٹینشن میں سکون ملتا ہے۔ادرک کی چائے پینے سے انسان کے پٹھےمضبوط ہوتے ہیں۔ اور یہ جوڑوں کی سوجن کو بھی ختم کر دیتی ہے۔
لیمن گراس اور مُلٹھی کی چائے :-
قہوہ پینے کے شوقین حضرات کسی اچھے پنسار اسٹور سے لیمن گراس لا کر اس کے چند تنکوں سے ایسا مزیدار قہوہ بناکر پی سکتے ہیں، جو انتہائی اہم طبی فوائد مہیا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔اس کے حیران کن نتائج کو جدید تحقیقات نے کافی اجاگر کردیا ہے ۔یہ قہوہ بنانا بہت آسان ہے۔ ایک کپ پانی گرم کرکے اس میں چند تنکے لیمن گراس ڈال کر اس کو ڈھک دیں اور ایک منٹ بعد اس کو چھان کر چینی یا شہد ڈال کر پی لیں۔
لیمن گراس کا قہوہ پینے والوں کو دُہرافائدہ ہے، ایک تو یہ قہوہ ذائقہ دار ہوتا ہے، دوسرا اس سے نظام ہضم کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ مرغن غذائیں کھانے کے بعد اس قہوہ کی چند چسکیاں کھاناہضم کردیتی ہیں، ساتھ ہی قبض اور گیس کا مسئلہ دور ہوتا ہے۔ لیمن گراس کی چائے پینے سے جسم سے غیر ضروری زہریلے مادے خارج ہوجاتے ہیں جبکہ یہ ہائی بلڈ پریشر کو نارمل کرتی ہے۔ یہ خون کی روانی کو بحال رکھتی ہے، جس سے شریانیںتنگ نہیں ہوپاتیں۔
طب واطباء کے نزدیک مُلٹھی سکون آور، قبض کشا اور پیشاب آور خصوصیت کی حامل ہے۔ کھانسی میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔ یہ سینے میں بلغم کو اعتدال کے ساتھ پتلا کر کے اس کا اخراج کرتی ہے۔ عضلات کو مضبوط بناتی ہے اور حلق کی خشکی دور کرتی ہے۔
پودینے کی چائے:-
پودینہ بہت سے فائدہ مند اجزاء کا ایک خزانہ ہے اور یہ پیٹ کم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ معدے کو طاقت دیتا اور ہاضمے کو مؤثر بناتا ہے، جس کے بعد معدہ غذا کو اچھی طرح ہضم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پودینے کی چائے میں اگر دارچینی بھی شامل کی جائے تو اس سے شوگر ہونے کا خطرہ بہت حد تک ٹل جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال پھولے ہوئے پیٹ کو کم کرتا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ مطب
پروفیسر حکیم سید تحمل حسین شاہ
وائس پریزیڈنٹ
پاکستان طبی کونسل ڈسٹرکٹ ساہیوال
ہیلتھ کئیر کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرد ادارہ
گھر بیٹھےامراض کے مستقل اور مستند علاج کے لئے رابطہ کریں
Contact Us
📞 0305-9996198
📞 0345-6996198

Comments

Popular posts from this blog

میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے

  میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے"وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔ اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا، ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مُدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اِس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتُون بات چیت کے لیے راضی ہوگئی۔ چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:- " ہاں خاتون ۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ " وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہے" میں اُسکی بے باکی پر حیران رہ گیا ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اُس خاتُون کی کُچھ بات ہی الگ تھی۔ اُسکے شوہر نے ایک نظرِ شکایت اُس پر ڈالی اور میری طرف اِمداد طلب نظروں سے گُھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔ بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا ت...

نیند کا نہ آنا

  نیند کا نہ آنا نیند کے نہ انے کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں پریشانیوں کے علاوہ معدے کی خرابی قبض گیس جسم میں انتہائی خشکی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سارے ایسے امراض بھی ہیں جن کی وجہ سے نیند نہیں اتی مثلا کھانسی دمہ خارش الرجی وغیرہ اگر کوئی شدت کا مرض لاحق نہ ہو تو درج ذیل تدابیر اختیار کرنے سے سکون کی نیند آجاتی ہے سب سے پہلے دن میں سونے سے گریز کریں کھانا وقت پر کھائیں قبض اور گیس کا سبب ہو تو ہلدی ایک گرام نمک ایک گرام ملا کر پانی سے صبح شام کھا لیں گیس اور قبض کے دور ہوتے ہیں نیند آنا شروع ہوجائے گی اگر بہت زیادہ دماغی خشکی کی وجہ سے نیند نہ آتی ہو تو ہلدی ایک گرام ایک چمچ دیسی گھی میں ملا کر صبح شام لینے سے جیسے ہی دماغی خشکی دور ہو گی نیند آنا شروع ہوجائے گی درج ذیل مشروب کے استعمال سے بھی طبعی نیند لوٹ آتی ہے پانی آدھا کلو میں چھ ماشہ یعنی تقریبا چھ گرام سونف ڈال کر آگ پر جوش دے لیجیے جب پانی 125 گرام رہ جائے تو اس میں گائے کا دودھ ایک پاؤ ڈال دیجئے اور دو چمچ دیسی گھی ڈال دیں اب اس میں تین عدد چھوٹی الائچی کے دانے پسے ہوئے اور چینی ملا دیں اور سوتے وقت پی لیا کریں ان شاء ال...

جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا

بےجان جسم مطب پہ دوران معائنہ اکثر مریض جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا جیسی علامات کا تذکرہ کرتےہیں۔ خاص علامت نامردی کی کچھ اس طرح بتاتے ہیں کہ بعد مباشرت جسم بےجان یعنی ٹوٹ سا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ افعال مباشرت بہترین سر انجام دیتے ہیں مگر دوران مباشرت لذت سے عاری اور مباشرت کے بعد جسم کی سکت ختم مثل مردہ۔ تو یہ بے جان جسم کی مرکزی علامت ہے، ایسے مریض مباشرت کے بعد چست یا ہشاش بشاش نہیں رہتے بلکہ لاغر، کمزور اور تھکا ہوا جسم ہوجاتا ہے۔ علامات مباشرت بعد فوراً یا دیر بعد جسم کی سکت کم ہو جانا، بیداری میں مشکل، دردجسم، چکرانا، کمر درد، دھڑکا، چڑچڑا پن، وسواسی، دماغی و اعصابی کمزوری، کام کاج میں بےدلی اور دقت ، تنہائی پسند، جھگڑالو، جنسی خواہشات کی شدت، بزدل، نالائقی، منفی سوچ، شکایتی، کوتاہ فہم، براز کی بے اعتدالی، ،مدافعت کمزور، فلو، چھینکیں، الرجی زکام، بلڈ لو رہنا، کثرت بول، سستی، آنکھوں سے پانی بہنا، ٹھنڈے پیر، غسل سے فرار، ڈر ے رہنا، اسباب مرض حرارت کی کمی، کمی خون، ملیریا، قلت اشتہا ء، دائمی زکام، جسم کی ٹھنڈک، کلسی مادوں کی زیادتی، جسمانی کمزوری، اعصاب ...