Skip to main content

جنسی تعلق قائم کرنے سے قبل اور اس کے بعد مردوں اور خواتین کو حفظان صحت کی کون سی آٹھ عادات اپنانی چاہییں؟







 جنسی تعلق قائم کرنے سے قبل اور اس کے بعد مردوں اور خواتین کو حفظان صحت کی کون سی آٹھ عادات

اپنانی چاہییں؟

ماہر نفسیات و جنسیات وائسینٹ بریٹ کہتے ہیں کہ ’جنسی حفظانِ صحت بہت اہمیت کی حاصل ہے کیونکہ یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن (ایس ٹی آئی) کو روک سکتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جنسی حفظان صحت قائم رکھنا نہ صرف آپ کو جنسی طور پر طاقتور بناتا ہے بلکہ آپ کی خواہش مباشرت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بدن اور جنسی اعضا کو باقاعدگی سے صاف ستھرا رکھنا ہی کسی جوڑے کے جنسی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مرد حضرات کے لیے ہدایات
برطانیہ کے پبلک ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے اپنی ویب سائٹ پر یہ وضاحت کی ہے کہ مرد اور خواتین کو کس طرح اپنے اپنے اعضائے مخصوصہ کی مناسب صفائی ستھرائی کا بندوبست رکھنا چاہیے۔
مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ شاور یا غسل کرتے وقت ہر روز اپنے عضو تناسل کو گرم پانی سے اچھی طرح دھوئیں خاص طور پر عضو کے ان حصوں کو جو جلد سے ڈھکے ہوتے ہیں تاکہ اس جگہ سمیگما یعنی لیس دار مادہ جمع نہ ہو پائے۔ سمیگما ایک لیس دار اینٹی بیکٹیریل ایجنٹ ہے۔
ڈاکٹر بریٹ کا کہنا ہے کہ ’سمیگما کے اکھٹے ہونے سے بچنے کا بنیادی علاج مرد کے عضو تناسل اور اس کے ارد گرد کی اچھے سے صفائی کرنا ہے۔‘
اگر اس جگہ سمیگما اکھٹا ہو جائے اور صفائی نہ کی جائے تو یہ مضر صحت بیکٹیریا کی افزائش نسل کے لیے مثالی ماحول فراہم کر سکتا ہے جبکہ یہ جسم میں بدبو پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
ان جگہوں کی صفائی نہ کرنا جسم کے اس حصے میں سوجن کا باعث (ورم حشفہ) بھی بن سکتا ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ پر طبی ماہر پیٹرک فرنچ لکھتے ہیں کہ ’یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ بہت سے مرد اپنے عضو کے ان حصوں کو نہیں دھوتے جو کھال سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ اور اس حوالے سے حفظان صحت کا خیال نہ رکھنا مردوں کے لیے نہ صرف طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس صورتحال کے ان کے پارٹنر پر بھی ناخوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔‘
وہ اس بات سے متفق ہیں کہ ’مرد حفظان صحت کے ان اصولوں پر توجہ نہیں دے پاتے۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’معلومات کی کمی یا لاعلمی کی وجہ سے کچھ مرد اپنے مخصوص عضو کو صحیح طریقے سے نہ دھونے کی غلطی کرتے ہیں اس کے باوجود کہ اس کے منفی نتائج ہوتے ہیں جیسا کہ بدبو پیدا ہو جاتا، تکلیف اور انفیکشن۔‘
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ مردوں کے جسم کا یہ حصہ انفیکشن اور دیگر یورولوجی مسائل کے پیدا ہونے کے لیے سب سے موزوں جگہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ مرد کے جسم کا یہ وہ حصہ پیشاب اور مادہ منویہ کے اخراج کی جگہ ہے، جن کے جسم میں اکھٹے ہونے سے انفیکشن ہو جاتا ہے، بلکہ یہ وہ جگہ بھی ہے جو بہت زیادہ حساس ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اگر ہم ان جگہوں پر پسینہ اکھٹا ہونے دیں گے اور انھیں باقاعدگی سے اچھی طرح دھوئیں گے نہیں تو ہمارا یہ عمل بیکٹیریا اور فنگس کے پھیلاؤ کو آسان بنا دے گا۔
این ایچ ایس مرد کے عضو مخصوصہ کے حصوں پر بہت سارا صابن اور شاور جیل کا استعمال نہ کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے اور ماہرین کے مطابق صرف صاف پانی سے اچھی طرح دھونا ہی کافی ہو سکتا ہے۔
این ایچ ایس کے مطابق اگر صابن استعمال بھی کرنا ہے تو ایسے ’ہلکا یا غیرخوشبودار ہونا چاہیے۔‘ یعنی صابن ایسا نہ ہو جو اپنے اندر موجود کیمیکلز کے باعث حساس جلد کے لیے تکلیف کا باعث بنے۔
’عضو تناسل کے پوشیدہ حصوں کو وافر مقدار میں پانی اور کم کیمیکل والے صابن کے استعمال سے صاف کیا جا سکتا ہے۔‘
خواتین کے لیے ہدایات
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سی کمپنیاں اور صنعتیں خواتین کی اندام نہانی کی حفظان صحت کے لیے کام کر رہی ہیں تاہم اس حوالے سے غلط معلومات بہت زیادہ عام ہیں۔
این ایچ ایس ویب سائٹ کے مطابق ’قدرتی طور پر اندام نہانی خواتین کے جسم سے نکلنے والی رطوبتوں (وجائینل ڈسچارج) کی مدد سے اپنی صفائی خود کر لیتی ہے۔ اور مزید صفائی کے لیے اسے وجائینل وائپس کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
’اندام نہانی کے اندر قدرتی طور پر ایسا بہت سارے محفوظ بیکٹیریا موجود ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔‘
درحقیقت اندام نہانی کی صفائی کے لیے بازار میں دستیاب بہت سی کاسمیٹک مصنوعات کو طبی ماہرین اور ماہرین جنسیات نہ صرف غیر ضروری بلکہ خطرناک سمجھتے ہیں۔
تھامارا مارٹنیز کہتی ہیں کہ ’فرج (اندام نہانی کا انتہائی بیرونی حصہ) کو صابن دیگر دستیاب مصنوعات سے صاف ستھرا کیا جا سکتا ہے مگر پھر بھی ان اشیا کا استعمال اس بات پر منحصر ہے کہ کیا ایسا کرنے سے آپ کو جلن تو نہیں ہوتی یا انفیکشن تو نہیں ہو جاتا۔ میں تجویز کرتی ہوں کہ خواتین کے جسم کے اس حصے کو دن میں کم از کم ایک مرتبہ لازماً پانی سے دھوئیں۔‘
تاہم ماہرین جنسیات اس بات پر متفق ہیں کہ فرج کے علاوہ اندام نہانی کے اندر کے حصوں بازار میں دستیاب مصنوعات سے صاف کرنے کے خطرات فوائد سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں اسی لیے وہ ان مصنوعات کو استعمال کرنے کی ہرگز سفارش نہیں کرتے ہیں۔
ایسی مصنوعات کو استعمال کرنے سے درج ذیل ممکنہ خطرات یا منفی ردعمل ہو سکتے ہیں:
•پی ایچ میں تبدیلی (جلد کی ہائیڈروجن کی صلاحیت)
•جلن اور کھجلی
•اس مادے میں کمی جو اندام نہانی کو چکنا رکھتا ہے
•الرجی
•بیماریوں کے لگنے کے خطرے میں اضافہ
w
•حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں، جیسا کہ قبل از وقت پیدائش کے خطرات کا بڑھ جانا
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ’ہمارا جسم اتنا عقلمند ہے کہ وہ اپنی داخلی حفظان صحت کو برقرار رکھنے کا طریقہ جانتا ہے۔‘ یعنی ہمیں صرف باقاعدگی سے بیرونی حصوں کی صفائی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
برائٹ کا کہنا ہے کہ خواتین کے عضو مخصوصہ اور اس کے ارد گرد کے حصے پر خارش سے نمٹنے کے لیے نمدار کر دینے والی کریمیں موجود ہیں تاہم ایسی تمام مصنوعات سے دور رہنا چاہیے جن کا استعمال اس حصے کو خوشبودار بنانے کے لیے کیا جاتا ہے جیسا کہ خوشبودار صابن یا ڈیوڈرینٹس وغیرہ کیونکہ ان کے استعمال سے جسم کے اس حصے میں بیکٹیریا کے ممکنہ حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
برائٹ ڈوچنگ یا خوشبو والے پیڈ استعمال کرنے کے خلاف بھی مشورہ دیتے ہیں۔
انھوں نے واضح کیا ’اندام نہانی عام طور پر خود کو صاف کرتی ہے۔ اس کی اندرونی جلد خود سے سیال مادہ پیدا کرتی ہیں جو مردہ خلیوں اور دیگر خرد نامیوں کو جسم سے باہر لے جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایام ماہواری میں تو خواتین کو اس حوالے سے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔
مرد اور خواتین، دونوں کے لیے ہدایات
ماہرین جنسیات کا مرد اور خواتین دونوں کے لیے پہلا مشورہ یہ ہے کہ وہ مباشرت سے پہلے اور بعد میں رفع حاجت (پیشاب) ضرور کریں۔
مارٹنز کہتے ہیں ’ناپسندیدہ انفیکشن سے بچنے کے جنسی جماع کے بعد پیشاب کرنا ایک بہترین اقدام ہے۔‘
’جنسی جماع کے اختتام پر باتھ روم جانا اور پیشاب کرنا جسم سے ہر اس مضر صحت چیز کو خارج کر دیتا ہے جو اس عمل کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ اور ایسا کرنا ان مضر صحت اشیا کو جسم کے اندر حساس حصوں تک نہیں پہنچنے دیتا۔‘
’جبکہ مباشرت سے قبل پیشاب کرنا اس لیے اہم ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ اطمینان بخش تعلقات اور جنسی عمل کے دوران غیر آرام دہ احساس کو دور کرتا ہے۔‘
برائٹ نے مزید کہا کہ یہ مشق ’پیشاب کی نالی کی کچھ بیماریوں کے انفیکشن کی ایک اچھی روک تھام ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہمیں جنسی تعلقات قائم کرنے کے فوراً بعد پیشاب کرنا چاہیے تاکہ ہم بیماریوں سے بچ پائیں اور انفیکشن کا شکار ہونے کے امکانات کو کم کریں۔
’اور درحقیقت ایسا کرنے میں ناکامی، پیشاب کی نالی کی بیماریوں کے لگنے کی سب سے عام وجوہ میں سے ایک ہے۔‘
برائٹ کے مطابق خواتین کو اس قسم کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور مباشرت کے 15 منٹ کے اندر اندر پیشاب کرنے کی عادت اپنائیں۔
جرنل آف فیملی پریکٹس کی سنہ 2002 میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صحتمند خواتین جو جماع کے 15 منٹ کے اندر پیشاب کرتی ہیں ان خواتین کے مقابلے میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا کم شکار ہوتی ہیں جو ایسا نہیں کرتیں۔
اہم سفارشات:
•روزانہ اعضائے مخصوصہ کو پانی سے صاف کریں
•ہاتھ، منھ اور دانت صاف کریں
•صاف انڈرویئر پہنیں اور اگر ممکن ہو تو سوتی کپڑے سے بنا زیر جامہ نہ پہنیں
•اپنے ڈاکٹر یا حکیم سے ملیں اور سال میں ایک بار معمول کی جانچ پڑتال کریں
•اعضا کی شکل، رنگ، سائز یا ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کریں اور باقاعدگی سے ان کا مشاہدہ کریں

بِسْمِ اللّٰهِ مطب
پروفیسر حکیم سید تحمل حسین شاہ
وائس پریزیڈنٹ
پاکستان طبی کونسل ڈسٹرکٹ ساہیوال
ہیلتھ کئیر کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرد ادارہ
گھر بیٹھےامراض کے مستقل اور مستند علاج کے لئے رابطہ کریں
Contact Us
📞 0305-9996198
📞 0345-6996198

Click Here...

Message Bismillah Matab on WhatsApp.

۔


Comments

Popular posts from this blog

میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے

  میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے"وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔ اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا، ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مُدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اِس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتُون بات چیت کے لیے راضی ہوگئی۔ چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:- " ہاں خاتون ۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ " وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہے" میں اُسکی بے باکی پر حیران رہ گیا ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اُس خاتُون کی کُچھ بات ہی الگ تھی۔ اُسکے شوہر نے ایک نظرِ شکایت اُس پر ڈالی اور میری طرف اِمداد طلب نظروں سے گُھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔ بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا ت...

نیند کا نہ آنا

  نیند کا نہ آنا نیند کے نہ انے کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں پریشانیوں کے علاوہ معدے کی خرابی قبض گیس جسم میں انتہائی خشکی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سارے ایسے امراض بھی ہیں جن کی وجہ سے نیند نہیں اتی مثلا کھانسی دمہ خارش الرجی وغیرہ اگر کوئی شدت کا مرض لاحق نہ ہو تو درج ذیل تدابیر اختیار کرنے سے سکون کی نیند آجاتی ہے سب سے پہلے دن میں سونے سے گریز کریں کھانا وقت پر کھائیں قبض اور گیس کا سبب ہو تو ہلدی ایک گرام نمک ایک گرام ملا کر پانی سے صبح شام کھا لیں گیس اور قبض کے دور ہوتے ہیں نیند آنا شروع ہوجائے گی اگر بہت زیادہ دماغی خشکی کی وجہ سے نیند نہ آتی ہو تو ہلدی ایک گرام ایک چمچ دیسی گھی میں ملا کر صبح شام لینے سے جیسے ہی دماغی خشکی دور ہو گی نیند آنا شروع ہوجائے گی درج ذیل مشروب کے استعمال سے بھی طبعی نیند لوٹ آتی ہے پانی آدھا کلو میں چھ ماشہ یعنی تقریبا چھ گرام سونف ڈال کر آگ پر جوش دے لیجیے جب پانی 125 گرام رہ جائے تو اس میں گائے کا دودھ ایک پاؤ ڈال دیجئے اور دو چمچ دیسی گھی ڈال دیں اب اس میں تین عدد چھوٹی الائچی کے دانے پسے ہوئے اور چینی ملا دیں اور سوتے وقت پی لیا کریں ان شاء ال...

جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا

بےجان جسم مطب پہ دوران معائنہ اکثر مریض جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا جیسی علامات کا تذکرہ کرتےہیں۔ خاص علامت نامردی کی کچھ اس طرح بتاتے ہیں کہ بعد مباشرت جسم بےجان یعنی ٹوٹ سا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ افعال مباشرت بہترین سر انجام دیتے ہیں مگر دوران مباشرت لذت سے عاری اور مباشرت کے بعد جسم کی سکت ختم مثل مردہ۔ تو یہ بے جان جسم کی مرکزی علامت ہے، ایسے مریض مباشرت کے بعد چست یا ہشاش بشاش نہیں رہتے بلکہ لاغر، کمزور اور تھکا ہوا جسم ہوجاتا ہے۔ علامات مباشرت بعد فوراً یا دیر بعد جسم کی سکت کم ہو جانا، بیداری میں مشکل، دردجسم، چکرانا، کمر درد، دھڑکا، چڑچڑا پن، وسواسی، دماغی و اعصابی کمزوری، کام کاج میں بےدلی اور دقت ، تنہائی پسند، جھگڑالو، جنسی خواہشات کی شدت، بزدل، نالائقی، منفی سوچ، شکایتی، کوتاہ فہم، براز کی بے اعتدالی، ،مدافعت کمزور، فلو، چھینکیں، الرجی زکام، بلڈ لو رہنا، کثرت بول، سستی، آنکھوں سے پانی بہنا، ٹھنڈے پیر، غسل سے فرار، ڈر ے رہنا، اسباب مرض حرارت کی کمی، کمی خون، ملیریا، قلت اشتہا ء، دائمی زکام، جسم کی ٹھنڈک، کلسی مادوں کی زیادتی، جسمانی کمزوری، اعصاب ...