Skip to main content

پودینہ کے طبی خواص




پودینہ کے طبی خواص

منہ اور گلے کی بیماریوں میں پودینہ کا کمال

جنہیں خشکی گھبراہٹ اور ذہنی انتشار اور افسردگی کا احساس ہو رہا ہو وہ تازہ پودینہ کی خوشبو سے اپنا علاج کرسکتے ہیں۔ پودینہ میں ایسے اجزاء ہیں جو طبیعت کو گوشت کھانے پر اکساتے ہیں۔ ایسے افراد جو گوشت خور ہوں انہیں غذا میں پودینہ بطور سلاد استعمال کرنا چاہیے

پودینہ ایک فرحت بخش سبزی اور طبعی اعتبار سے بھرپور شفا بخش تاثیر رکھنے والی جڑی بوٹی ہے۔ پودینہ کئی کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اسے کلی طور پر سبزی کے طور پر پکا کر نہیں کھایا جاتا ہے لیکن پودینہ کے ذائقہ سے کھانوں کو مہکانے اور طبیعت میں فرحت لانے کیلئے بالخصوص استعمال کیا جاتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کے مغربی ماہر پلائنی کی رائے کے مطابق پودینہ کی خوشبو دماغ کو تازگی بخشتی ہے جنہیں خشکی گھبراہٹ اور ذہنی انتشار اور افسردگی کا احساس ہو رہا ہو وہ تازہ پودینہ کی خوشبو سے اپنا علاج کرسکتے ہیں۔ پودینہ میں ایسے اجزاء ہیں جو طبیعت کو گوشت کھانے پر اکساتے ہیں۔ ایسے افراد جو گوشت خور ہوں انہیں غذا میں پودینہ بطور سلاد استعمال کرنا چاہیے۔پودینہ کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سیبی پودینہ‘ رنگ برنا‘ پودینہ‘سیاہ پودینہ‘ سفید پودینہ‘ ادرکی پودینہ‘ لیمونی پودینہ‘ کالی نفسی پودینہ‘ خوشبودار پودینہ معروف اقسام ہیں۔

پودینہ کے طبی خواص:

پودینہ طبیعت میں فرحت لاتا‘ کھانے کی رغبت بڑھاتا‘ کاسرریاح‘ متلی روکتا‘ مسامات کھولتا اور رگیں کشادہ کرتا ہے۔ بلڈپریشر کے مریضوں کیلئے پودینہ اور لہسن کی چٹنی مفید ثابت ہوتی ہے۔ خواتین ایام شروع ہونے سے تین چار دن پہلے پودینہ کا جوشاندہ پینا شروع کردیں تو ایام کھل کر آتے ہیں۔ پودینہ چونکہ طبیعت میں فرحت لاتا ہے اسی لیے اس کی ٹافیاں بھی بنائی جاتی ہیں اور غذاؤں اور دواؤں کے علاوہ بیرونی استعمال کیلئے بنائی جانے والی کاسمیٹکس میں اس کے اجزاء کو شامل کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر چین میں پودینہ صدیوں سے بطور معالج استعمال ہوتا آرہا ہے اور اس کے ہر جز سے مکمل طور پر استفادہ کیا جاتا ہے لیکن اب پودینہ کابطور معالج تصور کم ہوچکا ہے۔ مغربی ایشیائی ممالک میں پودینے کا تیل‘ چیونگم‘ ٹوتھ پیسٹ اور بیکری میں استعمال کیا جاتا ہے چونکہ پودینے میں وٹامنز اور معدنی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں لہٰذا پودینہ تازہ ہو یا خشک اس کا استعمال بہرحال لذت کام و دہن اور صحت کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔پودینہ کو بطور غذا بھی استعمال کیا جائے تو ایسے افراد جو گردے اور مثانے کی پتھریوں سے پریشان ہیں انہیں پودینہ کھانا چاہیے۔

پودینہ اور نظام ہضم:

معدہ کی اینٹھن اور ایسے افراد جن کا معدہ کمزور ہو‘ معدے میں گیس بنتی ہو یا بھاری پن کی شکایت ہو ان کیلئے سبز پودینہ کے پتے نہایت کارآمد دوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ پودینے کا جوس عمدہ محرک انگیز مشروب ہے۔ پودینہ کے تازہ جوس میں ایک چھوٹا چمچ شہد اور لیموں ملا کر دن میں تین بار استعمال کیا جائے تومعدہ اپنے افعال درست کرلیتا ہے۔ ماہرین غذائیات اور اطباء کا کہنا ہے کہ ا گر پودینہ کا قہوہ روزانہ ایک کپ صبح وشام لیا جائے تو نہ صرف معدہ درست رہتا ہے بلکہ چہرے پر نکھارآتا ہے۔ پیٹ کے درد میں مبتلا بچوں کو چوتھائی چمچ پودینہ کے بیج چبانے کیلئے دئیے جائیں اور بعدازاں پانی پلادیا جائے تو ان کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے۔

منہ اور گلے کی بیماریوں میں پودینہ کا کردار:

پودینہ اپنے خوشگوار ذائقہ اور اجزاء کی وجہ سے دانتوںکے معروف امراض اور بدبو کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پودینہ میں کلوروفل اور جراثیم ہوتے ہیں اگر کسی کو پائیوریا‘ مسوڑھوں کی خرابی اور دانتوں کی کمزوری جیسی شکایت ہو یا پھر گلا بیٹھ جائے اور زیادہ بولنے سے خراش پیدا ہوجائے تو تازہ پودینے کے پتے چبانے اور تازہ پودینے کے جوشاندہ میں نمک ملا کر غرغرے کئے جائیں تو آواز کھل جاتی اور گلے کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے۔پودینہ چونکہ جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے چہرے کی پھوڑے پھنسیوں اور جلدی امراض مثلاً خارش‘ سوزش پر لگایا جائے تو بیماری ختم ہوجاتی ہے۔ اطباء پودینہ کے سفوف کو بچوں کی پیدائش میں وقفہ کیلئے بھی استعمال کراتے ہیں۔

متفرق فوائد:

خشک پودینے کے دس گرام سفوف کو اگر خاتون مباشرت سے قبل کھائے تو حمل کا خطرہ نہیں رہتا۔ پودینے کا جوس ایک چمچہ دو چمچے خالص جو کا سرکہ ہم وزن شہد اور چار اونس گاجر کے جوس میںملا کر دن میں تین بار پیا جائے تو دمہ اور برونکائٹس کے امراض میں مبتلا افراد کو خاصی تسکین ملتی ہے۔ یہ نسخہ سانس کو بحال کرتا اور جراثیم اور موسمی اثرات سے بچاتا ہے۔


بِسْمِ اللّٰهِ مطب
پروفیسر حکیم سید تحمل حسین شاہ
وائس پریزیڈنٹ
پاکستان طبی کونسل ڈسٹرکٹ ساہیوال
ہیلتھ کئیر کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرد ادارہ
گھر بیٹھےامراض کے مستقل اور مستند علاج کے لئے رابطہ کریںٖ
                            0305-9996198 0345-6996198

Click Here...

Message Bismillah Matab on WhatsApp.


 

 


Comments

Popular posts from this blog

میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے

  میرا شوہر نامرد ہے اور مُجھے خُلع چاہیے"وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔ اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا، ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مُدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اِس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتُون بات چیت کے لیے راضی ہوگئی۔ چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:- " ہاں خاتون ۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ " وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہے" میں اُسکی بے باکی پر حیران رہ گیا ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اُس خاتُون کی کُچھ بات ہی الگ تھی۔ اُسکے شوہر نے ایک نظرِ شکایت اُس پر ڈالی اور میری طرف اِمداد طلب نظروں سے گُھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔ بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا ت...

نیند کا نہ آنا

  نیند کا نہ آنا نیند کے نہ انے کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں پریشانیوں کے علاوہ معدے کی خرابی قبض گیس جسم میں انتہائی خشکی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سارے ایسے امراض بھی ہیں جن کی وجہ سے نیند نہیں اتی مثلا کھانسی دمہ خارش الرجی وغیرہ اگر کوئی شدت کا مرض لاحق نہ ہو تو درج ذیل تدابیر اختیار کرنے سے سکون کی نیند آجاتی ہے سب سے پہلے دن میں سونے سے گریز کریں کھانا وقت پر کھائیں قبض اور گیس کا سبب ہو تو ہلدی ایک گرام نمک ایک گرام ملا کر پانی سے صبح شام کھا لیں گیس اور قبض کے دور ہوتے ہیں نیند آنا شروع ہوجائے گی اگر بہت زیادہ دماغی خشکی کی وجہ سے نیند نہ آتی ہو تو ہلدی ایک گرام ایک چمچ دیسی گھی میں ملا کر صبح شام لینے سے جیسے ہی دماغی خشکی دور ہو گی نیند آنا شروع ہوجائے گی درج ذیل مشروب کے استعمال سے بھی طبعی نیند لوٹ آتی ہے پانی آدھا کلو میں چھ ماشہ یعنی تقریبا چھ گرام سونف ڈال کر آگ پر جوش دے لیجیے جب پانی 125 گرام رہ جائے تو اس میں گائے کا دودھ ایک پاؤ ڈال دیجئے اور دو چمچ دیسی گھی ڈال دیں اب اس میں تین عدد چھوٹی الائچی کے دانے پسے ہوئے اور چینی ملا دیں اور سوتے وقت پی لیا کریں ان شاء ال...

جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا

بےجان جسم مطب پہ دوران معائنہ اکثر مریض جسم کا بے جان، سست، ٹوٹا ہوا، سن اور سکت نہ رہنا جیسی علامات کا تذکرہ کرتےہیں۔ خاص علامت نامردی کی کچھ اس طرح بتاتے ہیں کہ بعد مباشرت جسم بےجان یعنی ٹوٹ سا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ افعال مباشرت بہترین سر انجام دیتے ہیں مگر دوران مباشرت لذت سے عاری اور مباشرت کے بعد جسم کی سکت ختم مثل مردہ۔ تو یہ بے جان جسم کی مرکزی علامت ہے، ایسے مریض مباشرت کے بعد چست یا ہشاش بشاش نہیں رہتے بلکہ لاغر، کمزور اور تھکا ہوا جسم ہوجاتا ہے۔ علامات مباشرت بعد فوراً یا دیر بعد جسم کی سکت کم ہو جانا، بیداری میں مشکل، دردجسم، چکرانا، کمر درد، دھڑکا، چڑچڑا پن، وسواسی، دماغی و اعصابی کمزوری، کام کاج میں بےدلی اور دقت ، تنہائی پسند، جھگڑالو، جنسی خواہشات کی شدت، بزدل، نالائقی، منفی سوچ، شکایتی، کوتاہ فہم، براز کی بے اعتدالی، ،مدافعت کمزور، فلو، چھینکیں، الرجی زکام، بلڈ لو رہنا، کثرت بول، سستی، آنکھوں سے پانی بہنا، ٹھنڈے پیر، غسل سے فرار، ڈر ے رہنا، اسباب مرض حرارت کی کمی، کمی خون، ملیریا، قلت اشتہا ء، دائمی زکام، جسم کی ٹھنڈک، کلسی مادوں کی زیادتی، جسمانی کمزوری، اعصاب ...