Skip to main content

Posts

نیند کا نہ آنا

  نیند کا نہ آنا نیند کے نہ انے کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں پریشانیوں کے علاوہ معدے کی خرابی قبض گیس جسم میں انتہائی خشکی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سارے ایسے امراض بھی ہیں جن کی وجہ سے نیند نہیں اتی مثلا کھانسی دمہ خارش الرجی وغیرہ اگر کوئی شدت کا مرض لاحق نہ ہو تو درج ذیل تدابیر اختیار کرنے سے سکون کی نیند آجاتی ہے سب سے پہلے دن میں سونے سے گریز کریں کھانا وقت پر کھائیں قبض اور گیس کا سبب ہو تو ہلدی ایک گرام نمک ایک گرام ملا کر پانی سے صبح شام کھا لیں گیس اور قبض کے دور ہوتے ہیں نیند آنا شروع ہوجائے گی اگر بہت زیادہ دماغی خشکی کی وجہ سے نیند نہ آتی ہو تو ہلدی ایک گرام ایک چمچ دیسی گھی میں ملا کر صبح شام لینے سے جیسے ہی دماغی خشکی دور ہو گی نیند آنا شروع ہوجائے گی درج ذیل مشروب کے استعمال سے بھی طبعی نیند لوٹ آتی ہے پانی آدھا کلو میں چھ ماشہ یعنی تقریبا چھ گرام سونف ڈال کر آگ پر جوش دے لیجیے جب پانی 125 گرام رہ جائے تو اس میں گائے کا دودھ ایک پاؤ ڈال دیجئے اور دو چمچ دیسی گھی ڈال دیں اب اس میں تین عدد چھوٹی الائچی کے دانے پسے ہوئے اور چینی ملا دیں اور سوتے وقت پی لیا کریں ان شاء ال...

3 Khajoro Ka Kamaal

  کھجور تین عدد  مغزاخروٹ ایک عدد، مغز بادام گیارہ عدد، مغز پستہ پانچ عدد . روزانہ کی خوراک ھے ایک گلاس دودھ گرم کے ساتھ کھانے کے دو گھنٹہ بعد رات کو سوتے وقت استعمال کریں . یہ مختصر سا ھدیہ لمبی قطاروں والے نسخوں سے سو درجہ بہتر ھے      بوڑھوں ،بچوں،عورتوں کےلیے یکساں مفید ھے . فوائد پھٹوں کو طاقت دے گا دماغ کو قوی کرےگاگردوں کوطاقت دے گا قوت باہ کو کو تیسری رات سونےنہ دےگا خشک جسم کو تری دےگا قبض کو دور کرے گا عضو خاص میی تیزی اور تناو لاے گا  دل دماغ گردوں کےلیے بےنظیر چیز ھے انتڑیوں کی خشکی کو دور کرتا ھے پرسکون نیندلاتا ھے قوت باہ کو بڑھاتا ھے   کرتا ہے معدہ و انتڑیوں کی خشکی دور کرتا ھے اعصاب کو طاقت دیتا ھے دماغی قوت کو تیز کرتا  ھے . بِسْمِ اللّٰهِ مطب پروفیسر حکیم سید تحمل حسین شاہ وائس پریزیڈنٹ پاکستان طبی کونسل ڈسٹرکٹ ساہیوال ہیلتھ کئیر کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرد ادارہ گھر بیٹھےامراض کے مستقل اور مستند علاج کے لئے رابطہ کریں Contact Us 0305-9996198 0345-6996198 Click Here... Bismillah Matab Facebook Page Message Bismillah Ma...

Benefits of Indian gooseberry ( آملہ)

آپ کی صحت مند زندگی کیلئے آملہ کے فوائد پھلوں ، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کا ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہے اور یہ ہماری ذہنی ، جسمانی اور روحانی تکالیف کو دورکرنے کے بھی کام آتے ہیں اور ان کی ضرورت اور اہمیت ہماری زندگی میں ہر حال میں مسلم ہے۔ ایسی ہی ایک چیز آملہ یا آنولہ بھی ہے۔ یہ ایک ہندوستانی درخت کا پھل ہے یہ پاکستان میں بھی ہوتا ہے۔ یہ درخت تمام برصغیر کی آب و ہوا میں بویا جاتا ہے اور اپنے آپ بھی اگتا ہے۔ آملے کا درخت 30سے 40فٹ اونچا ہوتا ہے اس کے تنے کی گولائی تین سے چھ اور کبھی کبھی نو فٹ تک ہوجاتی ہے اس کا تنا اکثر مڑا ہوا اور شاخیںمضبوط اور پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کی چھال بھوری اورپتلی ہوتی ہے اس کے پتے املی (ثمر ہندی) کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اس کا پھل گودے دار ہوتا ہے۔ ذائقہ میں کسیلا ہوتا ہے اور پھل گول ہوتا ہے۔ آملے کی ایک قسم شلجمی ہے۔ یہ گول اور بڑا چپٹا ہوتا ہے۔ ذائقہ زیادہ کسیلا نہیں ہوتا۔ اسے عموماً شاہ آملہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عربی میں اور طب کے حوالے سے اسے در المج الملوک کہتے ہیں۔ ہندی میں رائے آملہ کہا جاتا ہے جو آملہ بڑا ، بے ریشہ ، زردی مائل ...

پودینہ کے طبی خواص

پودینہ کے طبی خواص منہ اور گلے کی بیماریوں میں پودینہ کا کمال جنہیں خشکی گھبراہٹ اور ذہنی انتشار اور افسردگی کا احساس ہو رہا ہو وہ تازہ پودینہ کی خوشبو سے اپنا علاج کرسکتے ہیں۔ پودینہ میں ایسے اجزاء ہیں جو طبیعت کو گوشت کھانے پر اکساتے ہیں۔ ایسے افراد جو گوشت خور ہوں انہیں غذا میں پودینہ بطور سلاد استعمال کرنا چاہیے پودینہ ایک فرحت بخش سبزی اور طبعی اعتبار سے بھرپور شفا بخش تاثیر رکھنے والی جڑی بوٹی ہے۔ پودینہ کئی کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اسے کلی طور پر سبزی کے طور پر پکا کر نہیں کھایا جاتا ہے لیکن پودینہ کے ذائقہ سے کھانوں کو مہکانے اور طبیعت میں فرحت لانے کیلئے بالخصوص استعمال کیا جاتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کے مغربی ماہر پلائنی کی رائے کے مطابق پودینہ کی خوشبو دماغ کو تازگی بخشتی ہے جنہیں خشکی گھبراہٹ اور ذہنی انتشار اور افسردگی کا احساس ہو رہا ہو وہ تازہ پودینہ کی خوشبو سے اپنا علاج کرسکتے ہیں۔ پودینہ میں ایسے اجزاء ہیں جو طبیعت کو گوشت کھانے پر اکساتے ہیں۔ ایسے افراد جو گوشت خور ہوں انہیں غذا میں پودینہ بطور سلاد استعمال کرنا چاہیے۔پودینہ کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سیبی پودین...

Dengue Fever , Causes and Symptoms

  ڈینگی بخار کی علامات متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے تقریباً 4 سے دو ہفتوں کے بعد علامات شروع ہو جاتے ہیں. ڈینگی بخار کے سب سے بنیادی علامات میں بہت تیز بخار (104 تک)، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، دل کا خراب ہونا، الٹی کرنا، پٹھوں اور جوڑوں کا درد اور جسم پر خارش جیسے سرخ دانوں کا نمودار ہونا ہے. یہ شروع کے علامات ہیں جو 3 دنوں سے لے کر ایک ہفتہ تک رہتے ہیں.  ڈینگی جب شدت اختیار کر لے تو ابتدائی علامات کے بعد جسم کا درجہ حرارت یعنی بخار کم ہو جاتا ہے اور پھر مسلسل الٹی شروع ہو جاتی ہے اور الٹیوں میں خون آنا شروع ہو جاتا ہے ،  پیٹ میں شدید درد، تھکاوٹ،بے سکونی، سانس کا پھولنا، مسوڑوں سے خون آنا شامل ہے. یہ تب ہوتا ہے جب خون میں platelets کی مقدار بہت گر جاتی ہے اور اندرونی  اعضاء سے خون جسم کے اندر رسنے لگتا ہے. یہ انتہائی خطرناک علامات ہیں بِسْمِ اللّٰهِ مطب پروفیسر حکیم سید تحمل حسین شاہ وائس پریزیڈنٹ پاکستان طبی کونسل ڈسٹرکٹ ساہیوال ہیلتھ کئیر کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرد ادارہ گھر بیٹھےامراض کے مستقل اور مستند علاج کے لئے رابطہ کریں Contact Us 📞 0305-9996198 📞 034...

سوزاک ایک موذی مرض

        سوزاک اس میں پیشاب کی نالی (نائزہ )میں زخم ہو جاتا ہے جس سے پیپ بہنے لگتی ہے اکثر میں درد اور شدید جلن ہوتی ہے مرض کی شدت کے باعث نائزہ میں تنگی پیدا ہوکر مرض میں مزید اضافہ ہو جاتا ہےاس کے جرثومہ کو گونوریا کہتے ہیں اسباب سوزاک کے اسباب میں پیشاب کی نالی میں رطوبت کا اخراج بند ہونا۔کثرت مباشرت ۔دوران حیض مباشرت کافعل سر انجام دینا ۔گرم و خشک اغزیہ کا کثرت استعمال ۔ادویہ گرم شدید کا استعمال۔ اغلام بازی۔تیزابی ادویات و غذاؤں کا کثرت استعمال زناکاری اس مرض کا خاص سبب ہے۔شدید گرم اغزیہ ۔مثلا گرم مصالحہ جات ۔تیل و ترشی ۔اچار چٹنی شراب خوری ۔کثرت گوشت خوری وغیرہ رطوبت کو روک کر پیشاب کی نالی میں سوزش پیدا کر دیتی ہیں ۔بعض اوقات ریگ مثانہ یا پتھری مثانہ یا کنکریوں کے اٹکنے کے باعث نالی میں سوزش ہو جاتی ہے علامات مرض لگنے کے تین یا چار دن سے لے کر آٹھ یا دس دن میں علامات کا اظہار ہونا شروع ہو جاتا ہے پیشاب کی نالی میں سخت سوجن اور سرخی پیدا ہو جاتی ہے خراش و جلن میں اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ مریض تڑپ اٹھتا ہے پیشاب میں شدید جلن اور سخت درد ہوتا ہے پیشاب کے سور...

'سنگھاڑا' مفید پھل ہی نہیں دوا بھی

  'سنگھاڑا' مفید پھل ہی نہیں دوا بھی سنگھاڑا پانی میں کیچڑ کے نیچے اگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ناپسندیدہ لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔اس پھل کو اردو میں سنگھاڑا اور انگریزی میں Water Chestnut کہتے ہیں۔ سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میں دکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔جنوبی ایشیامیں عام طور پر اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔ سنگھاڑا پودے کی جڑوں میں اگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اگتے اور یہ ٹہنیاں ایک سے پانچ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔اس کے اندر کا گودا سفیدرنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا ابال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ سنگھاڑے سردیوں میں منہ چلانے کے لیے بہترین چیز ہے۔ چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اُگتا ہے اس لیے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہوسکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعد اس کا توازن بحال ہوجاتا ہے۔...